بنگلورو،17/مئی(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے ایک بار پھر اپنا بیان دہرایاکہ 23 مئی کے بعد ریاست کا سیاسی ماحول تبدیل ہونے والا ہے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انتخابی نتائج سے پہلے ہی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت میں انتشار کی کیفیت عام ہوچکی ہے۔ 23مئی کو نتائج کے اعلان کے بعد اس انتشار میں اور اضافہ ہونے کا امکان ہے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 104 سیٹوں پر کامیابی کے باوجود بھی بی جے پی کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑ رہا ہے، جبکہ صرف 37 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے کمار سوامی وزیراعلیٰ بن بیٹھے ہیں۔دوسرے نمبر 80 سیٹیں جیتنے والی کانگریس عہدہئ نائب وزیراعلیٰ سے مطمئن ہے۔انہوں نے کہاکہ کندگول اور چنچولی اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کی جیت کے بعد آزاد اراکین سمیت بی جے پی کے اراکین کی تعداد 108ہوجائے گی۔ بعض برگشتہ کانگریس اراکین نے بی جے پی میں شمولیت پررضامندی ظاہر کی ہے۔ بی جے پی نے ہی ان لوگوں کو روک رکھا ہے۔ جیسے ہی نتائج کا اعلان ہوگا ان لوگوں کاصبر ٹوٹ جائے گااور ساتھ ہی کانگریس بھی ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ کانگریس پارٹی پر لنگایت فرقے کے ساتھ دغا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یڈیورپانے کہاکہ ویریندرا پاٹل کو اقتدار سے بے دخل کرکے کانگریس نے لنگایت طبقے کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ کیا ہے۔ اسی لئے لنگایتوں کے بارے میں اسے کچھ بھی کہنے کا اخلاقی حق نہیں رکھتی۔ ریاستی میں پچھلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی ہار کے لئے سدرامیا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یڈیورپانے کہاکہ ایک ایسا شخص ہو اپنی سیٹ نہیں بچا سکا وہ اب وزیراعلیٰ کے عہدے کا دعویدار بن بیٹھا ہے۔